Showing posts with label Dengue Protection. Show all posts
Showing posts with label Dengue Protection. Show all posts

Wednesday, 27 November 2013

ڈینگی کے روک تھام کے لئے اقدامات

 سوات ،مستقبل قریب میں ڈینگی کے روک تھام کے لئے پلان تیار

سوات (صبح سوات)سوات ،مستقبل قریب میں ڈینگی کے روک تھام کے لئے پلان تیار ،مچھر مار سپرے ،لاروے کے خاتمے اور عوام میں آگاہی مہم کے لئے ضلعی انتظامیہ نے صوبائی حکومت سے ساڑھے تین کروڑ کے فنڈز مانگ لئے ،سوات کے 21یونین کونسل دینگی کے لئے حساس قرار ،ڈینگی کے روک تھام کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ،ڈی جی ہیلتھ اور سوات سے تعلق رکھنے والے ممبران صوبائی و قومی اسبملی کی عدم شرکت ،اعلی سطح اجلاس میں شرکت نہ کرکے سوات کے ممبران اسمبلی کے عوام دوستی کا پول کھل گیا ،ملاکنڈ ڈویوثرن کے دیگر اضلاع کے ممبران اسمبلی کی بھر پور شرکت ،سوات سے تعلق رکھنے والے صرف تین ایم پی ایز نادیہ شیر خان ،عز یزاللہ گران ،محیب اللہ اور ایم این اے مسرت احمد شریک ہوئے تفصیلات کے مطابق اس سال سوات میں ڈینگی وباء پھوٹنے سے سرکاری جطورپر دس ہزار جبکہ غیر سرکار ی طورپر تیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ڈینگی وباء سے 60سے زائد افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے آئندہ سال اس مرض کے روک تھام کے لئے ضلعی انتظامیہ نے ایک پلان تیار کرلیا ہے پلان کے تحت دسمبر سے سوات اپریل 2014تک مچھر مار سپرے ،لاروے کا خاتمہ اور آگاہی مہم کے لئے اقدامات اُٹھائے جائینگے جس کے لئے ضلعی انتظامیہ نے صوبائی حکومت سے ساڑھے تین کروڑ روپے کے فنڈز مانگ لئے ہیں اس بارے کمشنر جرگہ ہال سیدوشریف میں ملاکنڈ ڈیوثرن کے تمام ممبران اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کا ایک اعلی سطح اجلاس طلب کیا گیاتھا پلان کے حوالے سے کمشنر ملاکنڈ ڈویوثرن افسرخان اور اے سی سوات فرخ عتیق نے شرکاء کو آگاہ کیا اجلاس کو بتایاگیا کہ سوا ت میں 21یونین کونسلوں کو ڈینگی مرض کے حوالے سے آئندہ سال حساس قرار دیدیا گیا ہے جن میں مینگورہ شہر او ر آس پاس کے گیارہ یونین کونسلوں کو حساس ترین قرار دید یا گیا ہے ان تمام یونین کونسلوں میں مچھر مار سپرے ،ڈینگی کے لاروں کے خاتمے اور عوام میں ا س بیماری سے روک تھا م اور اگاہی مہم کے لئے ٹیمیں تشکیل دید ئیے گئے ہیں جن میں لیڈ ی ہیلتھ وزیٹر گھروں کے اندر اور ڈاکٹر ز ،سکاوٹس ،سوات یوتھ اوردیگر رٖضاکار ٹیمں دیگر مقامات پر اس مہم میں حصہ لینگے اعلی سطح اجلاس میں سوات سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی مراد سعید ،سلیم الرحمان ،فضل حکیم ،جعفرشاہ ،محمود خان ،قیموس خان ،ڈاکٹر امجد نے اس اجلاس کو غیر ضروری قرار دے کر عد م شرکت کی حالانکہ یہ اجلاس سوات کے عوام کے مسقبل کے حوالے سے انتہائی اہم اجلاس تھا سوات میں ڈینگی کے مرض کے روک تھام کے لئے اس اعلی سطح اجلاس میں صوبائی وزیر صحت شوکت یوسفزئی اور ڈی جی ہیلتھ نے بھی شرکت کی زحمت گوارہ نہیں کی اجلاس میں سوات کے ممبران صوبائی وقومی اسمبلی نادیہ شیر خان ،محیب اللہ خان ،عزیز اللہ گران اور مسرت احمد زیب شریک ہوکر اس بیماری کے روک تھا م اور عوام کے حفاظت کے حوالے سے تجاویز دئیے اجلاس میں ملاکنڈ ڈیوثرن سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز بخت بیدار خان،حاجی منعیم خان ،مظفر سید ایڈوکیٹ اور دیگر نے اس مہلک بیماری کے روک تھام کے لئے مختلف تجاویز دیئے اور پنجاب حکومت سے ا س مرض کے روک تھام کے لئے مدد لینے کی بھی سفارش کردی اجلاس میں تمام اضلاع کے ڈی سیز اور ڈی ایچ اوز نے بھی شرکت کی اور اپنے اپنے علاقوں کے میں اس بیماری کے روک تھام کے حوالے سے تجاویز دیئے.

ڈینگی بل

 خیبرپختونخواہ اسمبلی سے ڈینگی مچھر اور مرض کے خاتمہ کابل پاس کرائیں گے

سوات (بیورو چیف ) ملاکنڈ ڈویژن سے منتخب ارکان صوبائی اسمبلی جلد ہی متفقہ طور پر خیبرپختونخواہ اسمبلی سے ڈینگی مچھر اور مرض کے خاتمہ کابل پاس کرائیں گے تاکہ ڈینگی کے آنے والے خطرات سے بروقت مؤثر طور پر نمٹا جاسکے ۔ یہ فیصلہ بدھ کے روز کمشنر ملاکنڈ ڈویژن افسر خان کی زیرصدارت منعقدہ ایک روزہ ڈویژنل ڈینگی کانفرنس میں کیاگیا ۔ کانفرنس کااہتمام ضلعی انتظامیہ سوات ، عالمی ادارہ صحت اور مرلن نے مشترکہ طور پر کیاتھا اوراس کا عنوان تھا ’’حاصل شدہ تجربات اور مستقبل کالائحہ عمل ‘‘ کانفرنس میں سینیٹر امرجیت ملہوترا ، ایم این اے مسرت احمد زیب ، ایم پی ایز محب اللہ خان ، عزیز اللہ گران ، نادیہ شیرخان ، نگینہ خان ، مظفرسید ، بخت بیدار خان اورعبدالمنعم خان کے علاوہ ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن عبداللہ خان ، ڈویژن کے ساتوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ، ڈی ایچ اوز، ماہر ڈاکٹروں ، عالمی ادارہ صحت ومرلن کے نمائندوں اوردیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی ۔ تمام منتخب نمائندے اورانتظامی افسران اس بات پر متفق ہوئے کہ گزشتہ سال ملاکنڈ ڈویژن ، خصوصاً سوات میں ڈینگی مرض نے جس وسیع پیمانے پر نقصان کیا اس کاتقاضا ہے کہ ہم اس مرض کو دوبارہ سراٹھانے نہ دیں اور ماحول میں موجود انڈوں کو آئندہ موسم بہار سے پہلے پہلے مکمل طور پر تلف کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے خاتمہ کیلئے منتخب نمائندوں ، سرکاری افسران واہلکاروں ، سیاسی ورکروں ، علماء ، میڈیا اورتمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ مل کر کام کریں اورڈینگی انڈوں کے ان تمام ذرائع کو اپریل 2014ء سے پہلے پہلے ختم کریں جہاں ان انڈوں سے لاروے اورمچھر بننے کے امکانات ہوں ۔ شرکائے سیمینار نے متفقہ رائے دی کہ خدانخواستہ دینگی دوبارہ پھیل یا تو اس میں اموات کی شرح45فیصد سے زائد ہوگی اورتیسری بار وبا کی صورت میں متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کی ضرورت ہوگی ۔ تاہم ساتوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے اس عزم کااظہارکیا کہ آئندہ کالائحہ عمل مؤثر طور پر بروئے کارلایاجائیگا اورتوقع ہے کہ یہ موذی مرض دوبارہ نہیں پھیلے گا۔ شرکاء نے اسمبلی سے متفقہ طور پر بل پاس کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد مرض کی روک تھام کیلئے ضروری فنڈز بھی دستیاب ہوسکیں گے قبل ازیں کمشنر ملاکنڈ افسرخان نے سیمینار کے اغراض ومقاصد پرروشنی ڈالی جبکہ اے سی سوات فرخ عتیق نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی ۔