Sunday, 8 December 2013

اسسٹنٹ کمشنر فروخ عتیق کی غیرقانونی واٹر سپلائی کنکشن کے خلاف کارروائی

سوات اسسٹنٹ کمشنر فروخ عتیق کی غیرقانونی واٹر سپلائی کنکشن کے خلاف کارروائی کا اغاز ،پہلے ہی روز 18غیر قانونی کنکشن کاٹ دئے ،اور مزید غیر قانونی واٹر سپلائی کنکشن کے خلاف کارروائی جاری ہے اسسٹنٹ کمشنر فروخ عتیق ،تفصیلات کے مطابق نے مینگورہ اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی واٹر سپلائی کنکشن کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے پہلے ہی روز علاقے میں آٹھارہ غیر قانونی واٹر سپلائی کنکشن کاٹ دئے گئے اسسٹنٹ کمشنر فروخ عتیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مینگورہ اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی واٹر سپلائی کنکشن کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے کسی کے ساتھ کوئی رعائت نہیں ہوگی پہلے ہی روز علاقے میں آٹھارہ غیر قانونی واٹر سپلائی کنکشن کاٹ دئے گئے ہے اور یہ کارروائی جاری رہیگی میں غیر قانونی واٹر سپلائی کنکشن لگانے والے افراد پر واضح کرتے ہے کہ فوری طور پر غیر قانونی کنکشن کاٹ دیا جائے ورنہ اُن کے خلاف قانو ن کے مطابق کارروائی کی جائیگی اس میں ملوث افراد کو جیل بھیج دیا جائیگا۔

رنگ محلہ کے مکینوں کا احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا

سوات سوئی گیس اور پانی کی عدم فراہمی پر رنگ محلہ کے مکینوں کا احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا ، عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کیخلاف شدید نعرے بازی ، مظاہرین نے مین چوک میں دھرنا دیکر کئی گھنٹوں تک ٹریفک بلاک رکھا ، انتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا ، تفصیلات کے مطابق ،مینگورہ شہر کے رنگ محلہ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے پانی اور سوئی گیس کی عدم فراہمی پر علاقے کے مکینوں اور بچوں نے ہاتھوں میں مٹکے اور گیس سلنڈر اُٹھا کر مین چوک میں احتجاجی دھرنا دیا مظاہرین نے عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کیخلاف شدید نعرے بازی کی انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ محلہ میں گزشتہ کئی دنوں سے گیس اور پانی کی شدید قلت ہے لیکن اس پر متعلقہ حکام اور عوامی نمائندوں نے آنکھیں بند کر لی ہے اس دوران اے سی فروخ عتیق نے موقع پرٹی ایم اے حکام کو پانی فراہم کرنے کی احکامات جاری کئے،اور محکمہ سوئی گیس کی حکام کا مٹینگ بدھ کے روز طلب کرلیا ،مظاہرین نے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی جس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر فروخ عتیق مظاہرین سے مذاکرات کیلئے پہنچ گئے ،اے سی فروخ عتیق نے موقع پر ٹی ایم اے حکام کو احکامات جاری کردئے اور محکمہ سوئی گیس کی میٹنگ بدھ کو طلب کر لیا مظاہرین نے اے سی کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کردیا ہے دریں ا ثناء اے سی فرخ عتیق نے محلہ میں عوامی شکایت پر پانی کی ٹینکی کا معائنہ کیا جو گندگی سے بھرا پڑا تھا انہوں نے موقع پر موجود ٹی ایم او اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ٹینکی کی صفائی کو یقینی بنائیں ۔

خیبر پختونخوا کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں ہڑتال

ڈاکٹر امجد تقویم کا اغوا,خیبر پختونخوا کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں ہڑتال
پشاور میں سینئر ڈاکٹر امجد تقویم کے اغوا کے خلاف خیبر پختون خوا کے تمام سرکاری اور پراییوٹ ہسپتالوں میں ہڑتال جاری ہے۔ڈاکٹر امجد تقویم کو منگل کی شب نامعلوم افراد نے حیات آباد سے اغوا کیا تھا۔ڈاکٹر امجد تقویم کے اغوا کے خلاف اج پانچ ویں روز بھی ہڑتال جاری ہے۔صوبے کے تمام بڑے سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے کام بند کر دیا ہے ۔ ہسپتالوں کی اوپی ڈی اور دیگر وارڈوں میں مریضوں کو نہیں دیکھا جا رہا۔ڈاکٹر صرف ایمرجنسی کو دیکھ رہے ہیں ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر امجد تقویم کی عدم بازیابی کی صورت میں احتجاج کا دائرہ کار دیگر صوبوں تک پھیلایا جاے گا۔آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ڈاکٹر تنظمیوں کا اجلاس رات اٹھ بجے طلب کر لیا ہے،ہڑتال کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

الپوری میں ہلکی بوندا باندی

الپوری شانگلہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر الپوری میں ہلکی بوندا باندی ، موسم خنکی میں اضافہ،گرم بلوزر ،جرسیاں ، گرم کپڑوں گرماگرم کھانوں پر رش ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق شانگلہ میں ایک مہینہ بعد موسم سرما کی بارش ہوئی تو موسم جو ایک ماہ خشکی کی وجہ سے جو قدرے معتدل ہوا تھا ایک مرتبہ پھر سرد ہوگیا جس کے بعد لوگوں نے گرم بلوزرز ، سویٹرز اور گرم کپڑے پہننا شروع کردئیے۔ شانگلہ میں اکتوبر کے وسط میں موسم سرما کی ہلکی برف باری شروع ہوئی تو موسم یک دم سرد ہوگیا ۔ تاہم بعد میں ایک ماہ موسم خشک ہوگیا جس سے موسم میں کافی تبدیلی ائی۔ اب موسم سرما کی دوسری بارش ہوئی تو موسم ایک مرتبہ پھر سرد ہوگیا۔

ستر ہ سالہ نواجوان پہا ڑ سے گر کر جاں بحق


کالام کے نواحی گاؤں اوشو میں ستر ہ سالہ نواجوان پہا ڑ سے گر کر جاں بحق آبائی قبرستا ن میں سپر دخا ک کر دیا گیا ۔ مقامی ذرائع کے مطابق جمشید ولد ملک معازالدین سکنہ اوشو ایصال کوٹ گھر سے بکریوں کی تلاش میں لاؤلاٹ کے پہاڑ پر گیا ہوا تھا جہاں پر پاؤں پھسلنے سے گر کر موقع پر ہی جان بحق ہوگئے جسے بعد ازاں مقامی قبرستان میں سنکڑوں اشکبار آنکھوں سے سامنے سپر د خاک کردیا گیا ۔

علاقہ شلدرہ زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم




منگلور کا علاقہ شلدرہ جدید دور میں زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ،مکین مسائل ومشکلات سے دوچار ،بنیادی سہولیات نہ ہونے کے وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی ،ممبران اسمبلی ووٹ لینے کے بعد سکرین سے غائب ،روڈ ،بجلی ،پینے کے پانی ،صحت اور دیگر مسائل برسوں میں حل نہ ہو سکے ، ممبران اسمبلی سے شلدرہ کیلئے وقت نکالنے توجہ دینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق سوات منگلور کا علاقہ شلدرہ کے عوام نے فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس دور جدید میں بھی منگلور کا علاقہ شلدرہ زندگی کے بنیادی سہولیاسے محروم ہے مکین مسائل ومشکلات سے دوچار ہے سہولیات نہ ہونے کے وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہیں ممبران اسمبلی ووٹ لینے کے بعد مکمل طور پر سکرین سے غائب ہو گئے ہیں اُنہوں نے کہا کہ علاقے میں پینے کے پانی ،روڈ ،بجلی ،صحت اور دیگر مسائل برسوں میں بھی حل نہ ہوسکے ہر دور حکومت میں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا ہے اس پورے علاقے میں ایک بھی ٹیوب ویل نہیں جس کہ وجہ سے علاقے کے عوام پینے کی پانی کئی کلو میٹر دور لانے پرمجبور ہے اُنہوں نے کہا کہ ان علاقے میں زیادہ تر گھروں میں بجلی بھی نہیں ہے اور لوگ تاریکی میں زندگی گزار رہی ہیںیہاں پر ایک اہم مسلہ روڈ کا ہے جو انتہائی خراب حالت میں جس پر گاڑی میں جانا ممکن نہیں ہے سیاستدان جب ووٹ لینے لیئے آتے ہیں تو بڑے بڑے دعووئے کر کے پھر اس علاقے کے طرف دیکھتا بھی نہیں ہے اُنہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد کسی بھی منتخب ممبر صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی نے یہاں کا روخ نہیں کیا ہے جس پر علاقے کے عوام انتہائی مایوس ہو چکے ہیں اس ترقی یافتہ دور میں بھی ان علاقے کے لوگ انتہائی مشکل میں زندگی بسر کر نے پر مجبور ہے اُنہوں نے تحریک انصاف کے پی کے 80سے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی عزیز اللہ خان (گران ) اوراین اے 29 ممبر قومی اسمبلی مرا د سعیدسے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے علاقے کے مسائل حل کیا جائے ،علاقہ شلدرہ کے عوام اکبر علی ،کشور ،عنائت ،سربلند ،بختی روان اورمحمد رسول کافورم میں اظہار خیال ۔

Friday, 6 December 2013

محکمہ فارسٹ کی کارروائی ،لاکھوں مالیت کے قیمتی سلیپر برآمد‘ملزم گرفتار


ڈی ایف او نے خفیہ اطلاع ملنے پر چھاپہ مار ٹیم کے ذریعے ایک ٹرک سے لاکھوں روپے کے قیمتی سلیپران بر آمد کر لئے
ٹرک ڈرائیور سے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے جر مانہ وصول‘ سلیپران بحق سرکار ضبط ‘ سمگلنگ میں ملوث فارسٹر و فارسٹ گارڈ ز معطل
سوات( )سوات فارسٹ ڈویژن کی کامیاب کاروائی ،لاکھوں روپے کی قیمتی سلپران برآمد ۔ملزم گرفتار ،گزشتہ روز ڈی ایف او سوات کو خفیہ زرائع سے اطلاع ملی کہ بالائی علاقوں سے انے والی ٹرک میں بھاری تعداد میں سلیپران کو دیگر شہر وں کو سمگل کیا جارہا ہے جس پر ایک چھاپہ مارپارٹی تشکیل دے دی گئی جنہوں نے ایک ٹرک نمبر sw8114 کو بالائی پاس روڈ پر روک لیا جسکو ڈرائیور باچہ سکنہ امان کوٹ چلا رہا تھا تلاشی کے دوران ٹرک سے ستر عدد دیار کی قیمتی سلپران برامد کرکے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا دریں اثناں ملزم کو محمد اشفاق خان کی عدالت میں پیش کردیا جہاں پر انہوں نے ٹرک ڈرائیور سے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے جر مانہ وصول کرکے سلیپران بحق سرکار ضبط کر لی ،جبکہ ڈی ایف او سوات نے فوری طور پر سمگلنگ میں ملوث اہلکاروں ایک فارسٹر اور دو فارسٹ گارڈ ز کو معطل کرکے مذید انکوائری شروع کردی۔

اشیائے ضروریہ کو پَرلگ گئی

ضلع سوات میں بے قابو مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری سونامی کاروپ دھارلیا،
اشیائے ضروریہ کو پَرلگ گئی ، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے غریب عوام کا جینا مشکل کردیا، علاقے میں روزگار ناپید، غریب طبقہ زندہ درگور ، حکمرانوں نے مہنگائی کے ذریعے غریبوں پر ڈرون حملے شروع کردئیے، غریب عوام نے مہنگائی کے آگے ہتھیار ڈال دئیے، تفصیلات کے مطابق حکمرانوں کی ناقص پالیسی کے باعث ملک کے دیگر حصوں کی طرح سوات میں ان دنوں کمرتوڑمہنگائی کی زد میں ہے جبکہ علاقے میں روزگار نہ ہونے کے باعث بیروزگاری کاجوسیلاب اُمڈ آیاہے ۔ اس نے غریبوں سے ان کے جینے کا حق بھی چھین لیاہے جبکہ حکمرانوں کی طرف سے غریبوں پر مہنگائی کے تابڑ توڑ ڈرون حملے ہورہے ہیں اوربیروزگاری نے بھی سونامی کاروپ دھارکر ہر دروازے پر دستک دے رہے ہیں ۔ جبکہ حکمرانوں اورعوامی نمائندوں نے بھی عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کے حوالے کرکے خود تماشائی بن گئی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ٗ



پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ٗ مہنگائی کا سیلاب اُمڈ آیا، پریشان حال عوام کو ایک اورجھٹکا،موجودہ حکومت نے بجلی اورپٹرولیم مصنوعات میں پے درپے اضافہ کرکے سابقہ حکومت کو بخشوادیا، ڈویشن بھرکے عوام نے پٹرولیم مصنوعات میں کمرتوڑ اضافہ مستردکردیا، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ ٗ عوام اورٹرانسپورٹرز میں آئے روز تو، تو میں ، میں ، تفصیلات کے مطابق موجودہ حکومت نے دوماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پندرہ روپے کا ہوشربا اضافہ کرکے صارفین کے ہوش اُڑادئیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے اشیائے خوردنی اورروزمرہ ضرورت کی چیزوں میں یکدم اضافہ نے لوگوں کو چکرادیا واضح رہے کہ ماہ اگست میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً ۹ فیصد اضافہ ہوچکاہے اوربجلی ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی برسراقتدار آنے سے پہلے عوام کو ریلیف دینے کے بلند دعوے کرنے والے لیگی حکمرانوں نے دوماہ میں عوام پر اضافوں کا بوجھ ڈال کر ان کی کمرتوڑ دی ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کابراہ راست اثر ملازمت پیشہ اورعام لوگوں پرپڑتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں ادھ موئے ہوچکے ہیں عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو فوری طور پر واپس لیاجائے اورلوگوں کی زندگی آسان بنائی جائے۔

منتخب ممبران اسمبلی نے اپنے موبائل آف کردئیے


خیبرپختونخواہ میں تبدیلی کاآغاز ، منتخب ممبران اسمبلی نے اپنے موبائل آف کردئیے ، کپتان نے تبدیلی کااختیاربیوروکریٹس کو سونپ دیا، عوام افسرشاہی کے رحم وکرم پر ، تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں تبدیلی کاآغاز ہوگیاہے انصاف سب کیلئے فارمولے کے مصداق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انصاف کا ترازو بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں تھمادیا، ممبران اسمبلی عضو معطل بنائدیے گئے جبکہ ممبران اسمبلی نے ممبر بننے کی خوشی میں چھ مہینے تک توفون آن رکھے اب ان کے فون آف آنا شروع ہوگئے سوات سے ایک منتخب رکن قومی اسمبلی شاید اسلام آباد سے کامیاب ہوئے ہیں اسلئے وہ اسلام آباد میں ہی نظرآتے ہیں جبکہ دوسرے ممبران اسمبلی نے بھی اپنے فون آف رکھنا شروع کردئیے ہیں دوسری طرف پارٹی کے چیئرمین عمران خان نے بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں انصاف کاترازو تھمادیاہے اورصوبہ میں گڈ گورننس کیلئے انکی خدمات حاصل کرلی ہیں حالانکہ سابقہ حکومتوں میں یہ بیوروکریٹس اپنے شاندار خدمات کافریضہ سرانجام دے چکے ہیں جس میں یہ بیوروکریٹس اے این پی اور پی پی پی کے اراکین اسمبلی کے آگے پیچھے پھرتے تھے اس دور کے ایم پی ایز توعوام کے سامنے ہروقت دستیاب رہتے تھے لیکن موجودہ منتخب نمائندے نہ تو عوام کاکام نکال سکتے ہیں اور نہ ہی عوام میں رہنا پسند کرتے ہیں شایداسکی وجہ یہ ہے کہ ایم پی ایز کلاس فور کا تبادلہ بھی نہیں کرسکتے ۔ نہ ہی انکی کوئی سنتا ہے اس لئے یہ اب عوام کے سامنے آنے سے بھی گریزاں رہتے ہیں